February 6, 2026 6:47 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اردو

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

مسلمانوں کے بنیادی عقائد

پورے اسلامی قوانین نہ ماننے والوں کا شرعی حکم

سوال

۔ مولانا صاحب! ایک شخص بظاہر نماز روزے کا پابند ہو اور اُٹھتے بیٹھتے قرآنِ کریم کی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کرتا ہو، ہر وقت اور ہر آن ’’اسلام، اسلام‘‘ پکارتا ہو، لیکن یقین رکھتا ہو کہ اسلام خوبصورت نغمے سننے میں قطعاً مانع نہیں ہے، جس کو یقین ہو اور جس نے برملا کہا بھی ہو کہ: ’’کون کہتا ہے کہ مجسمہ سازی اسلام کے خلاف ہے‘‘ جو نہ صرف حرام کو حلال کہتا ہو بلکہ سودی بینکاری نظام کو اسلامی بینکنگ کے نام سے رائج کرنے اور کروانے والا ہو، جبکہ علمائے دِین مارک اَپ سسٹم کو سودی نظام کہتے رہے اور آج بھی کہتے ہیں۔ مولانا صاحب! ایسے شخص یا اَشخاص کا تعین کس زُمرے میں ہوگا؟ حرام کام کو حرام جان اور مان کر بکراہت کرنا کسی حد تک سنگین جرم کے زُمرے میں آتا ہے، قابلِ سزا جرم ہے، مگر حرام کو قصداً حلال کہنا بلکہ اسلامی کہنا، کہاں تک لے جاتا ہے؟میں آپ کی توجہ مئی ۱۹۹۱ء میں ہماری قومی اسمبلی کے منظور شدہ شریعت بل کی شق۳ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، اس میں کہا گیا ہے کہ شریعت یعنی اسلام کے اَحکامات جو قرآن اور سنت میں بیان کئے گئے ہیں، پاکستان کا بالادست قانون (سپریم لاء) ہوں گے، بشرطیکہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متأثر نہ ہو۔ یعنی ملک کے سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متأثر ہونے کی صورت میں قرآن اور حدیث شریف کو رَدّ کردیا جائے گا، نہیں مانا جائے گا، سیاسی نظام اور حکومتی شکل کے سلسلے میں سپریم لاء آئین ۱۹۷۳ء ہی ہوگا۔ مولانا صاحب! اس بل کا بنانے والا، اس کے منظور کرنے والے، اس کو ملک میں رائج کروانے والا اور ان تمام حضرات کی معاونت کرنے والے علمائے کرام بلکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے علماء کس زُمرے میں آئیں گے؟ بلکہ میں تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ جس ملک میں کسی ایک بات پر قصداً قرآن اور سنت کو نہ ماننے کا فیصلہ کیا گیا ہو وہ ملک، وہ قوم مسلمان کہلانے کی مستحق ہے یا نہیں؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں گی یا قہر؟

جواب

۔ آپ کے سوال کے سلسلے میں چند اُمور لائقِ ذکر ہیں:اوّل:۔ نماز و روزہ اور تلاوتِ آیات بڑی نیکی کی بات ہے، لیکن یہ تمام اعمال ایمان کی شاخیں ہیں، اگر دِل میں ایمان ہو تو اعمال مقبول ہیں، اور ایمان نہ ہو تو اعمال کی کوئی قیمت نہیں۔(۱)دوم:۔ ایمان کے صحیح ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز و ناجائز اور حلال و حرام کا جو نظام مقرّر فرمایا ہے، آدمی دِل و جان سے اس نظام کو تسلیم کرتا ہو، اور زبان سے اس کا اقرار کرتا ہو،(۲)اگر کوئی شخص شریعت کے قطعی حلال کو حرام جانے یا شریعت کے قطعی حرام کو حلال سمجھے، شریعت نے جس چیز کو قطعی طور پر گناہ قرار دیا ہے، اس کو جائز سمجھے، تو ایسا شخص اللہ و رسول کی تکذیب کرتا ہے، اس لئے اس کا ایمان صحیح نہیں،(۳)بلکہ وہ قیامت کے دن بے ایمانوں کی صف میں کھڑا ہوگا۔سوم:۔ راگ اور گانے کو (خصوصاً آلاتِ موسیقی کے ساتھ اور بالخصوص پیشہ ور نامحرَم عورتوں کی آواز میں) حرام قرار دیا گیا ہے، اور ایسے راگ گانے کے حرام اور قطعی حرام ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں۔(۴) اس لئے جو شخص اس کو حلال کہتا ہے، وہ سراپا غلط فہمی اور جہلِ مرکب کا شکار ہے۔چہارم:۔ بت تراشی اور مجسمہ سازی بھی شرعاً حرام ہے،(۵) مسلمان بت تراش اور بت فروش نہیں ہوتا، بلکہ بت شکن ہوتا ہے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویریں اور مورتیاں بنانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔(۶)پنجم:۔ اسلام میں سود اور جوئے کا حرام ہونا اتنا واضح ہے کہ ہر مؤمن و کافر اس سے باخبر ہے،(۷) سود کا حرام ہونا نہ صرف قرآنِ کریم میں صراحۃً مذکور ہے، بلکہ سود نہ چھوڑنے والوں کے خلاف قرآنِ کریم نے اللہ ورسول کی جانب سے اعلانِ جنگ کیا ہے(۸)! اس کو جائز کہنے والا قرآنِ کریم کا منکر ہے۔ششم:۔ بعض لوگوں نے اپنی خواہشات و توہمات اور نفسانی خیالات سے ایک نیا دِین تصنیف کرلیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دِین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جن صاحب یا صاحبوں کا آپ نے ذکر کیا ہے کہ وہ راگ گانے کو، مجسمہ سازی اور سود و جوئے کو بھی اسلام کے منافی نہیں سمجھتے، ان کے ذہن میں ان کا اپنا تصنیف کردہ دِین ہے جس کو وہ جہلِ مرکب کی وجہ سے اسلام سمجھتے ہیں۔ہفتم:۔ شیخ سعدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ: ’’وزیر جتنا بادشاہ سے ڈرتا ہے، اگر اتنا اللہ تعالیٰ سے ڈرتا تو فرشتوں سے بڑھ جاتا ہے(۹)‘‘ہمارے اربابِ اقتدار جس قدر امریکا بہادر سے ڈرتے ہیں، اتنا اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔ پاکستان کے عوام چونکہ مسلمان ہیں، اس لئے ہمارے حکمران بھی اللہ و رسول کا اور کتاب و سنت کا نام لینے پر مجبور ہیں، لیکن یہ حضرات کتاب و سنت کا نام لینے میں بھی یہ احتیاط ملحوظ رکھتے ہیں کہ امریکا بہادر ناراض نہ ہو، اور دانایانِ مغرب کی طرف سے ان کو ’’بنیادپرستی‘‘ کا طعنہ نہ دیا جائے۔ ’’شریعت بل‘‘ میں جو یہ شرط رکھی گئی ہے کہ: ’’قرآن و سنت پاکستان کا بالادست قانون ہوگا، بشرطیکہ ملک کا موجودہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متأثر نہ ہو‘‘ یہ بھی ’’خدا سے زیادہ امریکا سے ڈرنے‘‘ کا مظہر ہے۔ہشتم:۔ ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ وہ بغیر شرط اور بغیر اِستثناء کے اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اَحکام کو دِل و جان سے تسلیم کرے۔ یہ کہنا کہ: ’’میں قرآن و سنت کو بالادست قانون مانتا ہوں، بشرطیکہ میری فلاں دُنیوی غرض متأثر نہ ہو‘‘ ایمان نہیں، بلکہ کٹر نفاق ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی ہونے سے صریح انکار و اِنحراف ہے، غور فرمائیے کہ کیا حکومت کے کسی ملازم کو یہ حق ہے کہ حکومت کا قانون تسلیم کرنے میں اِستثنائی شرطیں لگائے؟ اور کیا ایسی شرطیں لگانے والے کو حکومت ملازم رکھ لے گی؟ اگر نہیں! تو خود سوچئے کہ بندے کو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اور ایک اُمتی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کیا اختیار باقی رہ جاتا ہے؟ اور ایسا شخص یا ایسے اَشخاص مسلمان کہلانے کا کیا حق رکھتے ہیں۔۔۔!نہم:۔ ہم سب گناہگار ہیں، اللہ تعالیٰ کے سینکڑوں اَحکام کی روزانہ مخالفت کرتے ہیں۔ تاہم حکمِ اِلٰہی کی خلاف ورزی اور حکمِ اِلٰہی سے بغاوت کے درمیان بڑا فرق ہے، خلاف ورزی یہ ہے کہ: آدمی حکمِ اِلٰہی کو مانتا ہو اور اپنی غلطی و کوتاہی اور نفس و شیطان کے بہکانے سے حکمِ اِلٰہی کی تعمیل میں تقصیر کرے، ایسا شخص گناہگار ضرور ہے، مگر مسلمان ہے۔ اور بغاوت یہ ہے کہ: آدمی حکمِ اِلٰہی کو ماننے کے لئے ہی تیار نہ ہو، یا کسی حکمِ اِلٰہی کو ماننے سے انکار کردے، ایسا شخص (خواہ کتنا ہی عبادت گزار ہو) مسلمان نہیں،(۱۰) بلکہ شیطان کا چھوٹا بھائی ہے، کیونکہ شیطان بھی بڑا عبادت گزار تھا، اس نے ایک طویل عرصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے ایک حکم کو خلافِ حکمت و مصلحت سمجھ کر اس کے ماننے سے انکار کردیا، جس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ کے لئے مردود اور راندۂ درگاہ ہوگیا، اور قرآنِ کریم نے اس پر کفر کا فتویٰ دیاوَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ۔(۱۱) پس جو شخص اللہ تعالیٰ کے کسی ایک حکم کو خلافِ حکمت قرار دیتا ہے اور اس کے قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، وہ شیطان کا چھوٹا بھائی اور’’وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ‘‘کا مصداق ہے۔دہم:۔ جس ملک کے عوام اور حکمران ایسے نام نہاد مسلمان ہوں، اس ملک پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں کیا نازل ہوں گی؟ غضب اور قہر ہی نازل ہوگا! یہی وجہ ہے کہ ہر طرف سے جوتے کھارہے ہیں، مگر دِلوں پر ایسی مہر لگی ہے کہ پھر بھی عبرت نہیں پکڑتے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِیمانِ صحیح نصیب فرمائیں اور اعمالِ صالحہ کی توفیق سے سرفراز فرمائیں۔

(۱)﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَأُوْلَٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ المؤمن ٤٠
(۲) الْإیمان ھو تصدیق النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالقلب فی جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عند اللہ ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۰۴)۔ الْإیمان فی الشرع ھو التصدیق بما جاء بہ من عند اللہ تعالٰی أی تصدیق النبی علیہ السلام بالقلب فی جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ من عند اللہ تعالٰی۔ (شرح عقائد ص:۱۱۹)۔
(۳) تنبیہ: فی البحر والأصل ان من اعتقد الحرام حلالًا فان کان حرامًا لغیرہ کمال الغیر لَا یکفر، وان کان لعینہٖ فان کان دلیلہ قطعیًّا کفر۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۲۳، باب المرتد، مطلب فی منکر الْإجماع)۔
(۴) وفی البزازیۃ: استماع صوت الملاھی کضرب قصب ونحوہ حرام لقولہ علیہ السلام استماع الملاھی معصیۃ والجلوس علیھا فسق والتلذذ بھا کفر۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۳۴۹ طبع ایچ ایم سعید)۔
(۵) وظاھر کلام النووی فی شرح مسلم الْإجماع علٰی تحریم تصویرہ صورۃ الحیوان فانہ قال قال أصحابنا وغیرھم من العلماء تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم وھو من الکبائر لأنہ متوعد علیہ بھٰذا الوعید الشدید المذکور فی الأحادیث یعنی مثل ما فی الصحیحین عنہ صلی اللہ علیہ وسلم أشد الناس عذابًا یوم القیامۃ المصورون یقال لھم احیوا ما خلقتم ثم قال وسواء صنعہ لما یمتھن أو لغیرہ فصنعتہ حرام علٰی کل حال، لأن فیہ مضاہاۃ لخلق اللہ تعالٰی ۔۔۔الخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۲۹ باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، طبع دارالمعرفۃ بیروت، شامی ج:۱ ص:۶۴۷ مطلب إذا تردد الحکم بین السُّنَّۃ والبدعۃ)۔
(۶) إِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابٗا مُّهِينٗا ٥٧ الأحزاب ٥٧
۔ وقال عکرمۃ: معناہ بالتصویر والتعرّض لفعل ما لَا یفعلہ إلّا اللہ ینحت الصور وغیرھا وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لعن اللہ المصوّرین‘‘ (قرطبی ج:۱۴ ص:۲۳۸) وأیضًا: عن عون بن أبی جحیفۃ عن أبیہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھٰی عن ثمن الدم وثمن الکلب وکسب البغیّ ولعن آکل الرّبٰی وموکلہ والواشمۃ والمستوشمۃ والمصوّر۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۸۱ باب من لعن المصور)۔
(۷) يَٰٓيَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا إِنَّمَا ٱلْخَمْرُ وَٱلْمَيْسِرُ وَٱلْأَنصَابُ وَٱلْأَزْلَـٰمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَـٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ٩٠ المائدة ٩٠۔
(۸)يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ البقرة ٢٧٨ 
(۹) گر وزیر از خدا بتر سیدے ہمچناں کز مَلکِ ملک بودے (گلستان سعدی ص:۵۸، حکایت:۳۰ طبع قدیمی)۔
(۱۰) وکل من یکفر بما بلغہ وصح عندہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أو جمع علیہ المؤمنون مما جاء بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھو کافر کما قال اللہ تعالٰی: وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِۦ جَهَنَّمَۖ۔ (المحلّٰی لِابن حزم ج:۱ ص:۱۲، رقم المسئلۃ:۲۰، الأشیاء الموجبۃ غسل الجسد کلہ)۔
(۱۱) قال تعالٰی:وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ وَٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٣٤ البقرة ٣٤۔

[show_categories count="3"]

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • ایمان کی حقیقت
  • مسلمانوں کے بنیادی عقائد

تلاش

زمرے

تلاش

تلاش

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔