April 5, 2026 6:35 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

شہید اسلام
https://new.shaheedeislam.com

مسلمانوں کے بنیادی عقائد

مجذوم سے تعلق رکھنے کا حکم

سوال

۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث مبارکہ میں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مجذوم سے بچو‘‘ فقہِ حنفی کا مسئلہ یہ ہے کہ: مجذوم کی بیوی کو اختیار ہے کہ وہ فسخِ نکاح کرے۔ اب عرض یہ ہے کہ: جذام جسے انگریزی میں ’’لپروسی‘‘ کہتے ہیں، پہلے ایک لاعلاج اور قابلِ نفرت بیماری تصوّر کی جاتی تھی، اب یہ مرض لاعلاج نہیں رہا، ایسے مریض میں نے دیکھے ہیں جو جذام سے صحت یابی کے بعد شادیاں کرچکے ہیں اور ان کے صحت مند بچے ہیں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ اب یہ بیماری عام بیماریوں کی طرح ایک عام مرض ہے، جس کا سو فیصد کامیاب علاج گارنٹی کے ساتھ ہوتا ہے۔ معاشرے میں مجذوم سے جو نفرت ہوتی تھی، اب وہ نہیں رہی۔ اس بیماری کے جو ڈاکٹرز ہوتے ہیں ان کے حسنِ اخلاق کا کیا کہنا، وہ کہتے ہیں کہ جذام کے مریض، لوگوں کی توجہ کے مستحق ہیں، ان سے نفرت نہیں کرنی چاہئے، تاکہ یہ لوگ احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔ بعض اوقات یہ ڈاکٹرز مجذومین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھاتے ہیں، ان کے ساتھ مصافحہ بھی کرتے ہیں، گفتگو کرتے ہیں، صحت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اب تک میں نے کسی سے نہیں سنا کہ کسی مجذوم سے یہ مرض ڈاکٹر یا کسی عام آدمی کو لاحق ہوا ہو۔ اب آپ سے دو باتیں پوچھنی ہیں:۱:۔ حدیثِ مذکور کا مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیماری قابلِ نفرت ہے، اور اس بیماری کے معالجین کہتے ہیں کہ یہ بیماری قابلِ نفرت نہیں ہے، حدیث شریف کا صحیح مفہوم کیا ہے؟یہ اِشکال محض میری جہالت و کم فہمی و کم علمی پر مبنی ہے۔۲:۔ فقہِ حنفی کا جو مسئلہ میں نے تحریر کیا ہے، کیا آج کل کے حالاتِ مذکورہ کے موافق ایک ایسے آدمی کی بیوی کو بھی فسخِ نکاح کا اختیار ہوگا جو کہ جذام کی بیماری سے مکمل طور پر صحت یاب ہوچکا ہو؟

جواب

۔ نفیس سوال ہے، اس کا جواب سمجھنے کے لئے دو باتوں کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے:ایک یہ کہ بعض لوگ قوی المزاج ہوتے ہیں، ایسے مریضوں کو دیکھ کر یا ان کے ساتھ مل کر ان کے مزاج میں کوئی تغیر نہیں آتا، اور بعض کمزور طبیعت کے ہوتے ہیں (اور اکثریت اسی مزاج کے لوگوں کی ہے)، ان کی طبیعت ایسے موذی امراض کے مریضوں کو دیکھنے اور ان سے میل جول رکھنے کی متحمل نہیں ہوتی۔دوم:۔ یہ کہ شریعت کے اَحکام قوی و ضعیف سب کے لئے ہیں، بلکہ ان میں کمزوروں کی رعایت زیادہ کی جاتی ہے۔ چنانچہ اِمام کو حکم ہے کہ وہ نماز پڑھاتے ہوئے کمزوروں کے حال کی رعایت رکھے۔(۱)یہ دو باتیں معلوم ہوجانے کے بعد سمجھئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بہ نفسِ نفیس مجذوم کے ساتھ کھانا تناول فرمایا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ: ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجذوم کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اپنے سالن کے برتن میں داخل کیا اور فرمایا: کھا! اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہوئے(۲)۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۴)اِمام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی نوعیت کا واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی نقل کیا ہے،(۳)گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے واضح فرمایا کہ نہ مجذوم قابلِ نفرت ہے اور نہ وہ اَچھوت ہے، لیکن چونکہ ضعفاء کی ہمت و قوّت اس کی متحمل نہیں ہوسکتی، اس لئے ان کے ضعفِ طبعی کی رعایت فرماتے ہوئے ان کو اس سے پرہیز کا حکم فرمایا۔
۲:۔ حضراتِ فقہاء کا یہ فتویٰ بھی عورت کے ضعفِ طبعی کی رعایت پر محمول ہے، پس اگر مجذوم کا صحیح علاج ہوجائے تو عورت کو نکاح فسخ کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ حضرات فقہاء کا یہ فتویٰ اس پر لاگو ہوگا۔(۴)

(۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’اذا صلّٰی أحدکم للناس فلیخفف، فان فیھم السقیم والضعیف والکبیر واذا صلّٰی أحدکم لنفسہ فلیطوّل ما شاء‘‘ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۱۰۱، باب ما علی الْإمام)۔
(۲) عن جابر رضی اللہ عنہ: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أخذ بید مجزوم فأدخلہ معہ فی القصعۃ، ثم قال: ’’کل بسم اللہ، ثقۃً باللہ وتوکّـلًا علیہ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۴، طبع رشیدیہ دہلی)۔
(۳) عن ابن ابی بریدۃ ان عمر أخذ بید مجزوم۔ (ترمذی ج:۲ ص:۴۰)۔
(۴) وفی الدر المختار: ولَا یتخیر أحد الزوجین بعیب فی الآخر فاحشًا کمجنون وجذام وبرص ۔۔۔ الخ۔ وفی الشامیۃ: لیس لواحد من الزوجین خیار فسخ النکاح بعیب فی الآخر عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف وھو قول عطاء والنخعی ۔۔۔ وخالف الأئمۃ الثلاثۃ فی الخمسۃ مطلقًا ومحمد فی الثلاثۃ الأول لو فی الزوج کما یفھم من البحر وغیرہ ۔۔۔ الخ۔ (شامی ج:۳ ص:۵۰۱)۔

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • آپ کے مسائل
    •   Back
    • کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام
    • موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)
    • قادیانی‌فتنہ
    • غیرمسلم‌سے‍تعلقات
    • عقیدۂ‌ختمِ‌نبوّت ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام
    • علاماتِ‌قیامت
    • گناہوں سے تو بہ
    • موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟
    • آخرت کی جزا و سزا
    • جنت
    • تعویز گنڈے اور جادو
    • جنات
    • رسومات
    • تو ہم پرستی
    • متفرق مسائل
    •   Back
    • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
    • ایمانیات
    • تقدیر
    • محاسن اسلام
    • انبیائے کرام علیہم السلام
    • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
    • معراج
    • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
    • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
    • اجتہاد و تقلید
    • سنت و بدعت
    • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
    •   Back
    • جلد اوّل
    • جلد دوم
    • جلد سوم
    • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
    • ایمانیات
    • تقدیر
    • محاسن اسلام
    • انبیائے کرام علیہم السلام
    • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
    • معراج
    • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
    • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
    • اجتہاد و تقلید
    • سنت و بدعت
    • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
    • کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام
    • موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)
    • قادیانی‌فتنہ
    • غیرمسلم‌سے‍تعلقات
    • عقیدۂ‌ختمِ‌نبوّت ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام
    • علاماتِ‌قیامت
    • گناہوں سے تو بہ
    • موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟
    • آخرت کی جزا و سزا
    • جنت
    • تعویز گنڈے اور جادو
    • جنات
    • رسومات
    • تو ہم پرستی
    • متفرق مسائل
    • وضو کے مسائل
    •   Back
    • وضو کے مسائل
[custom_urdu_search_form]

زمرے

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔