April 5, 2026 10:58 am

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

شہید اسلام
https://new.shaheedeislam.com

تقدیر

سب کچھ پہلے لکھا جاچکا ہے یا انسان کو بھی نیک اعمال کا اختیار ہے؟

سوال

۔ تقدیر کے بارے میں فرمائیں کہ کیا سب کچھ پہلے سے لکھا جاچکا ہے یا نیک کام کرنے کے لئے آدمی کو بھی کچھ اختیار ہے؟ اور آدمی کا اختیار کہاں تک ہے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت اور دوزخ کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اور میں نے قرآن پاک کی یہ آیت (ایف اے) کی تفسیر القرآن (مصنفہ غلام احمد فریدی) صفحہ نمبر:۳۰۹ میں پڑھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ جس کو چاہے مٹادے اور جس چیز کو چاہے ثابت رکھے اور اس کے پاس لوحِ محفوظ ہے‘‘ (الرعد:۳۹)۔ آپ مجھے قرآن پاک، احادیث مبارکہ اور اِمامِ اعظم ابوحنیفہؒ کے خیالات اور اپنی رائے سے مفصل طور پر آگاہ فرماویں، تاکہ میری پریشانی دُور ہوسکے۔

جواب

۔ ہر چیز پہلے سے لکھی جاچکی ہے، اور تمام اختیاری اُمور میں آدمی کو اِختیار بھی ہے۔ اختیار، تقدیر کے مقابل نہیں، بلکہ اس کے ماتحت ہے۔ یعنی تقدیر میں یوں لکھا ہے کہ آدمی اپنے قصد و اِرادے اور اِختیار سے فلاں فلاں وقت فلاں فلاں کام کرے گا۔ جنت و دوزخ کا فیصلہ واقعی ہوچکا ہے، مگر اس کا ظاہری سبب افعالِ اختیاریہ ہی کو بنایا گیا ہے۔ اور یہ جو فرمایا ’’اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جس چیز کو چاہے ثابت رکھتا ہے‘‘ اس سے مراد تقدیرِ معلق ہے کہ اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، لیکن ’’اصل کتاب‘‘ میں تقدیرِ مبرم لکھی ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ تقدیرِ معلق ہوئی۔ تقدیرِ مبرم یہ ہے کہ فلاں بیمار، فلاں دوا و علاج کرے گا تو بچ جائے گا، نہیں کرے گا تو مرجائے گا۔ لیکن وہ کرے گا یا نہیں؟ یہ بات ’’اصل کتاب‘‘ میں لکھی ہے، اور یہ تقدیرِ مبرم ہے۔(۱) ہمارے اکابر، اِمامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر حضرات کا یہی عقیدہ ہے جو میں نے لکھا اور یہی قرآن و سنت سے ماخوذ ہے۔

(۱) وعین مقادیرھم تعیینا بما لَا یتأتی خلافہ بالنسبۃ لما فی علمہ القدیم المعبر عنہ بأم الکتاب أو معلقًا کان یکتب فی اللوح المحفوظ فلان یعیش عشرین سنۃ، ان حج وخمسۃ عشر ان لم یحج، وھٰذا ھو الذی یقبل المحو والْإثبات المذکورین فی قولہ تعالٰی: يَمۡحُواْ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ ٣٩ أی التی لَا محو فیھا ولَا اثبات فلا یقع فیھا إلّا ما یوافق ما أبرم فیھا کذا ذکرہ ابن حجر۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲۲)۔

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • آپ کے مسائل
    •   Back
    • کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام
    • موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)
    • قادیانی‌فتنہ
    • غیرمسلم‌سے‍تعلقات
    • عقیدۂ‌ختمِ‌نبوّت ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام
    • علاماتِ‌قیامت
    • گناہوں سے تو بہ
    • موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟
    • آخرت کی جزا و سزا
    • جنت
    • تعویز گنڈے اور جادو
    • جنات
    • رسومات
    • تو ہم پرستی
    • متفرق مسائل
    •   Back
    • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
    • ایمانیات
    • تقدیر
    • محاسن اسلام
    • انبیائے کرام علیہم السلام
    • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
    • معراج
    • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
    • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
    • اجتہاد و تقلید
    • سنت و بدعت
    • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
    •   Back
    • جلد اوّل
    • جلد دوم
    • جلد سوم
    • مسلمانوں کے بنیادی عقائد
    • ایمانیات
    • تقدیر
    • محاسن اسلام
    • انبیائے کرام علیہم السلام
    • عقیدہ حیات النبی صلی علیہ وسلم پر اجماع
    • معراج
    • حضور نبی اکرم صلی الله والسلام کی خواب میں زیارت
    • صحابہ و صحابیات ، ازواج مطہرات اور صاحبزادیاں
    • اجتہاد و تقلید
    • سنت و بدعت
    • غلط عقائد رکھنے والے فرقے
    • کفر،‌شرک‌اور‌اِرتداد‌کی‌تعریف‌واَحکام
    • موجباتِ‌کفر‌(یعنی‌کفریہ‌اقوال‌وافعال)
    • قادیانی‌فتنہ
    • غیرمسلم‌سے‍تعلقات
    • عقیدۂ‌ختمِ‌نبوّت ونزولِ‌حضرت‌عیسیٰ‌علیہ‌السلام
    • علاماتِ‌قیامت
    • گناہوں سے تو بہ
    • موت‌کے‌بعد‌کیا‌ہوتا‌ہے؟
    • آخرت کی جزا و سزا
    • جنت
    • تعویز گنڈے اور جادو
    • جنات
    • رسومات
    • تو ہم پرستی
    • متفرق مسائل
    • وضو کے مسائل
    •   Back
    • وضو کے مسائل
[custom_urdu_search_form]

زمرے

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔