سوال
ایک شخص گھر سے نکلا اس خیال پر کہ کسی عالمِ دِین کے پاس جاکر اسلام قبول کرے، دِل نے تو اِسلام قبول کرلیا اور زبان سے اقرار نہیں کیا، اور راستے میں اسے موت آگئی، اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے؟ مسلمان ہے یا کافر؟
جواب
دُنیوی اَحکام جاری ہونے کے لئے اِقرار شرط ہے، اگر کسی شخص کے سامنے اس نے اپنے اسلام لانے کا اقرار نہیں کیا تو دُنیوی اَحکام میں اس کو مسلمان نہیں سمجھا جائے گا، اور اگر کسی کے سامنے اسلام کا اقرار کرلیا تھا تو اس پر مسلمانوں کے اَحکام جاری ہوں گے۔(۵)
(۵) وذھب جمھور المحققین الٰی أن الْإیمان ھو التصدیق بالقلب وانما الْإقرار شرط لِاجراء الأحکام فی الدُّنیا لما ان تصدیق القلب أمر باطنی لَا بد لہ من علامۃ فمن صدق بقلبہٖ ولم یقر بلسانہٖ فھو مؤمن عند اﷲ تعالٰی ولم یکن مؤمنًا فی أحکام الدُّنیا۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۰۴ طبع دہلی مجتبائی)۔
صفحہ نمبر۴۴