February 6, 2026 5:30 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اردو

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 1:42 pm

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

October 30, 2025 2:18 pm

مسلمانوں کے بنیادی عقائد

ایمان کی حقیقت

سوال

 ایمان کیا ہے؟ حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔

جواب

حدیث جبرائیل میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا پہلا سوال یہ تھا کہ اسلام کیا ہے؟ اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے پانچ ارکان ذکر فرمائے۔(۱)حضرت جبرائیل علیہ السلام کا دوسرا سوال یہ تھا کہ: ایم کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ایمان یہ ہے کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور ایمان لاؤ اچھی بری تقدیر پر۔‘‘(۲)
ایمان ایک نور ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے دل میں آجاتا ہے، اور جب یہ نور دل میں آتا ہے تو کفر و عناد اور رسومِ جاہلیت کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور آدمی ان تمام چیزوں کو جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، نورِ بصیرت سے قطعی سچی سمجھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا ہے یہاں تک کہ اس کی خواہش اس دین کے تابع نہ ہوجائے جس کو میں لے کر آیا ہوں(۳)۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین میں سب سے اہم تر یہ چھ باتیں ہیں جن کا ذکر اس حدیث پاک ۔۔۔حدیثِ جبریل۔۔۔ میں فرمایا ہے، ۔۔۔دیکھا جائے تو۔۔۔ پورے دین کا خلاصہ انہی چھ باتوں میں آجاتا ہے:
۱:۔۔۔ اللہ تعالیٰ پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ذات و صفات میں یکتا سمجھے، وہ اپنے وجود اور اپنی ذات و صفات میں ہر نقص اور عیب سے پاک اور تمام کمالات سے متصف ہے، کائنات کی ہر چیز اسی کے ارادہ و مشیت کی تابع ہے، سب اسی کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، کائنات کے سارے تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔(۱)
۲:۔۔۔ فرشتوں پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ فرشتے، اللہ تعالیٰ کی ایک مستقل نورانی مخلوق ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم ہو، بجا لاتے ہیں، اور جس کو جس کام پر اللہ تعالیٰ نے مقرّر کردیا ہے وہ ایک لمحے کے لئے بھی اس میں کوتاہی نہیں کرتا۔(۲)
۳:۔۔۔ رسولوں پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت اور انہیں اپنی رضامندی اور ناراضی کے کاموں سے آگاہ کرنے کے لئے کچھ برگزیدہ انسانوں کو چن لیا، انہیں رسول اور نبی کہتے ہیں۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی خبریں رسولوں کے ذریعے ہی پہنچتی ہیں، سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تھے، اور سب سے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کسی کو نبوّت نہیں ملے گی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا لایا ہوا دِین قیامت تک رہے گا۔(۳)
۴:۔۔۔ کتابوں پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی معرفت بندوں کی ہدایت کے لئے بہت سے آسمانی ہدایت نامے عطاکئے، ان میں چار زیادہ مشہور ہیں: تورات، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اُتاری گئی، زَبور جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل کی گئی، اِنجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی اور قرآن مجید جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ یہ آخری ہدایت نامہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے پاس بھیجا گیا، اب اس کی پیروی سارے انسانوں پر لازم ہے اور اس میں ساری انسانیت کی نجات ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس آخری کتاب سے رُوگردانی کرے گا وہ ناکام اور نامراد ہوگا۔(۴)
۵:۔۔۔ قیامت پر اِیمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دُنیا ختم ہوجائے گی زمین و آسمان فنا ہوجائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سب کو زِندہ کرے گا اور اس دُنیا میں لوگوں نے جو نیک یا برے عمل کئے ہیں، سب کا حساب و کتاب ہوگا۔ میزانِ عدالت قائم ہوگی اور ہر شخص کی نیکیاں اور بدیاں اس میں تولی جائیں گی، جس شخص کے نیک عملوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا پروانہ ملے گا اور وہ ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کے مقام میں رہے گا جس کو ’’جنت‘‘ کہتے ہیں، اور جس شخص کی بُرائیوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا پروانہ ملے گا اور وہ گرفتار ہوکر خدائی قیدخانے میں، جس کا نام ’’جہنم‘‘ ہے، سزا پائے گا، اور کافر اور بے ایمان لوگ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے۔ دُنیا میں جس شخص نے کسی دُوسرے پر ظلم کیا ہوگا، اس سے رِشوت لی ہوگی، اس کا مال ناحق کھایا ہوگا، اس کے ساتھ بدزبانی کی ہوگی یا اس کی بے آبروئی کی ہوگی، قیامت کے دن اس کا بھی حساب ہوگا، اور مظلوم کو ظالم سے پورا پورا بدلا دلایا جائے گا۔ الغرض خدا تعالیٰ کے انصاف کے دن کا نام ’’قیامت‘‘ ہے، جس میں نیک و بد کو چھانٹ دیا جائے گا، ہر شخص کو اپنی پوری زندگی کا حساب چکانا ہوگا اور کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔(۱)
۶:۔۔۔ اچھی اور بُری تقدیر پر اِیمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کارخانۂ عالم آپ سے آپ نہیں چل رہا، بلکہ ایک علیم و حکیم ہستی اس کو چلا رہی ہے۔ اس کائنات میں جو خوشگوار یا ناگوار واقعات پیش آتے ہیں وہ سب اس کے ارادہ و مشیت اور قدرت و حکمت سے پیش آتے ہیں۔ کائنات کے ذرّہ ذرّہ کے تمام حالات اس علیم و خبیر کے علم میں ہیں اور کائنات کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان تمام حالات کو، جو پیش آنے والے تھے، ’’لوحِ محفوظ‘‘ میں لکھ لیا تھا۔ بس اس کائنات میں جو کچھ بھی وقوع میں آرہا ہے وہ اسی علمِ ازلی کے مطابق پیش آرہا ہے، نیز اسی کی قدرت اور اسی کی مشیت سے پیش آرہا ہے۔ الغرض کائنات کا جو نظام حق تعالیٰ شانہ‘ نے ازل ہی سے تجویز کر رکھا تھا، یہ کائنات اس طے شدہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔(۲)

(۱)عن عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ قال: بینما نحن عند رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ذات یوم إذ طلع علینا رجل شدید بیاض الثیاب شدید سواد الشعر لَا یُریٰ علیہ أثر السفر، ولَا یعرفہ مِنَّا أحد، حتّٰی جلس إلی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فأسند رُکبتیہ إلٰی رکبتیہ ووضع کفیہ علٰی فخذیہ وقال: یا محمد! أخبرنی عن الْإسلام۔ قال: الْإسلام أن تشھد أن لَا إلٰہ إلّا اﷲ وأن محمدًا رسول اﷲ، وتقیم الصلٰوۃ، وتؤتی الزکٰوۃ، وتصوم رمضان، وتحج البیت إن استطعت إلیہ سبیلا۔ قال: صدقت! فعجبنا لہ یسألہ ویصدّقہ۔ قال: فأخبرنی عن الْإیمان ۔۔۔إلخ۔

(مشکٰوۃ ص:۱۱)۔

(۲) ’’۔۔۔۔ قال: ان تؤمن باﷲ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ۔۔۔۔‘‘

(مشکوٰۃ، کتاب الْإیمان، الفصل الأوّل ص:۱۱ طبع قدیمی کراچی)۔

(۳) ’’۔۔۔۔ لَا یؤمن أحدکم حتّٰی یکون ھواہ تبعًا لما جئت بہ‘‘

(مشکوٰۃ، باب الْإعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثانی ص:۳۰ طبع قدیمی کراچی)۔

(۱) قال: أن تؤمن باﷲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ أی بتوحید ذاتہ وتفرید صفاتہ وبوجوب وجودہ وبثبوت کرمہ وجودہ وسائر صفات کمالہ من مقتضیات جلالہ وجمالہ ۔۔۔إلخ۔

(مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۱ ص:۴۹ طبع بمبئی)۔

(۲) (وملائکتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معناہ أطلقت بالغلبۃ علی الجواھر العلویۃ النورانیۃ المبرأۃ عن الکدورات الجسمانیۃ وھی وسائط بین اﷲ وبین أنبیائہ وخاصۃ أصفیائہ وقال بعضھم: ھی أجسام لطیفۃ نورانیۃ مقتدرۃ علٰی تشکلات مختلفۃ ۔۔۔۔۔۔۔ وانھم عباد مکرمون یسبحون اللیل والنھار لَا یفترون ولَا یعصون اﷲ ما أمرھم ویفعلون ما یؤمرون۔

(مرقاۃ شرح مشکٰوۃ، کتاب الْإیمان ج:۱ ص:۴۹، ۵۰)۔

(۳) (ورسلہ) بأن تعرف انھم بلغوا ما أنزل اﷲ إلیھم وانھم معصومون، وتؤمن بوجودھم فیمن علم بنص أو تواتر تفصیلًا، وفی غیرھم إجمالًا۔ (مرقاۃ شرح المشکٰوۃ ج:۱ ص:۵۰)۔ أول الرسل آدم وآخرھم محمد۔ (کنز العمال ج:۱۱ ص:۴۸۰ حدیث نمبر:۳۲۲۶۹ طبع بیروت)۔ وعن أنس بن مالک رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت، فلا رسول بعدی ولَا نبیّ۔

(ترمذی، ابواب الرؤیا ج:۲ ص:۵۱)۔

(۴) (وکتبہ) أی ونعتقد بوجود کتبہ المنزلۃ علٰی رسلہ تفصیلًا فیما علم یقینًا کالقرآن والتوراۃ والزَّبور والْإنجیل، وإجمالًا فیما عداہ، وأنھا منسوخۃ بالقرآن وأنہ لَا یجوز علیہ نسخ ولَا تحریف إلٰی قیام الساعۃ۔

(مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۱ ص:۵۰)۔

(۱) (والیوم الآخر) أی یوم القیامۃ لأنہ آخر أیام الدنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وذٰلک بأن تؤمن بوجودہ وبما فیہ من البعث الجسمانی والحساب والجنَّۃ والنَّار وغیر ذٰلک مما جائت بہ النصوص۔

(مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۱ ص:۵۱)۔

(۲) (خیرہ وشرہ) أی نفعہ وضرہ وزید فی روایۃ وحلوہ ومرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والمعنٰی تعتقد أن اﷲ تعالٰی قدر الخیر والشر قبل خلق الخلائق وان جمیع الکائنات متعلق بقضاء اﷲ مرتبط بقدرہ، قال اﷲ تعالٰی: قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اﷲِ۔ وھو مرید لھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ثم القضاء ھو الحکم بنظام جمیع الموجودات علٰی ترتیب خاص فی اُمّ الکتاب أوّلًا ثم فی اللوح المحفوظ ثانیًا علٰی سبیل الْإجمال والقدر تعلق الْإرادۃ بالأشیاء فی أوقاتھا وھو تفصیل قضائہ السابق بإیجادھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ھٰذا تحقیق کلام القاضی۔



ج: 1 ص: 44


 

[show_categories count="3"]

متعلق پوسٹس

  • All Post
  • ایمان کی حقیقت
  • مسلمانوں کے بنیادی عقائد

تلاش

زمرے

تلاش

تلاش

اسلامی اقدار کی ترویج اور مستند علمی ذخیرے تک آپ کی رسائی۔ علم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔